الطاف حسین حالی ؔ
تخلص:۔حالیؔ (پہلے خستہ ؔتخلص کرتے تھے)
پیدائش:۔1837پانی پت میں ہوئی ۔
وفات:۔1914پانی پت میں ہوئی ۔
٭الطاف حسین حالیؔ کے والد کا نام ’’ایزدبخش‘‘تھا۔
٭الطاف حسین حالیؔ کی بیوی کا نام ’’اسلام النسا ‘‘تھا۔
٭الطاف حسین حالی ؔکے ادبی ذوق کی تربیت دہلی کی ادبی مجلسوں اور شیفتہ وغالب کی صحبتوں میں ہوئی۔
٭الطاف حسین حالی ؔ1856 میں ضلع حصار کے کلکٹر کے دفتر میں ملازم ہوئے۔
٭سر سید کے رفقا میں حالی ؔاس حیثیت سے ممتاز ہیں کہ انہوں نے سر سید کے مشن کو پورے طور پر اپنا لیا تھا۔
٭الطاف حسین حالیؔ نے نیچرل شاعری کا نظریہ پیش کیا ۔
٭الطاف حسین حالی ؔ کی نثر نگار ی کا آغاز1867میں ہوا ۔
٭ نثر نگار ی کی حیثیت سے حالی کا بڑا کا رنامہ یہ ہیکہ وہ اردو میں سوانح نگاری کے بانی ہیں۔
٭انہوں نے تین سوانح عمریاں لکھی ہیں :۔ حیات سعدی(1886)،یادگار غالب(1897)
اور حیات جاوید(1901)
٭دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو کی پہلی تنقیدی کتاب ’’مقدمہ شعرو شاعری ‘‘(1893 )میں لکھ کر
اردو میں باقاعدہ تنقید نگاری کی روایت قائم کی ۔
٭خطوط کا مجموعہ:۔مکتوبات حالی(1925) (دوجلدوں میں شائع ہوئے )
٭الطاف حسین حالیؔنے انجمن پنجاب لاہور کے مشاعرے کے لیے چار نظمیں لکھی ہیں۔
(۱) برکھا رت1874(145اشعار) (۲) نشاط امید1874(92اشعار) (۳) حب وطن (215اشعار)
(۴)مناظرہ رحم وانصاف 1875(119اشعار)
٭بچوں کے لیے لکھی گئی نظمیں:۔ خدا کی شان ،کہنا بڑوں کا مانو،جواں مردی کا کام،میں کیا بنوں گا،سپاہی چٹھی
رساں،دھان بونا،مرغی اور اس کے بچے ،راست گوئی اور امید ‘‘ان کی مشہور نظمیں ہیں۔
٭الطاف حسین حالیؔ کی دیگرنظمیں:۔مناجات بیوہ،نشاط امید،پیام عمل،مٹی کا دیا،چپ کی داد،قوم کی پاسداری وغیرہ