قاضی عبدالودود
حیات، علمی و تحقیقی خدمات اور تصانیف
قاضی عبدالودود اردو کے ممتاز محقق، نقاد، مرتب اور ادبی مبصر تھے۔ اردو تحقیق میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ شخصیت کے بجائے متن کو اہمیت دیتے تھے اور ہر دعوے کو منطقی، تاریخی اور مستند شواہد کی بنیاد پر پرکھتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں اردو تحقیق کا ایک اہم معمار اور بعض محققین نے ’’تحقیق کا معلمِ ثانی‘‘ قرار دیا ہے۔
تعارف:۔
نام: قاضی عبدالودود
والد کا نام: قاضی عبدالوحید
پیدائش: 8 مئی 1896ء
مقامِ پیدائش: گیا، بہار؛ ان کی پیدائش نانیہال کاکو میں ہوئی تھی
وفات: 25 جنوری 1984ء
مقامِ وفات: پٹنہ، بہار
شعبۂ شہرت: تحقیق، تنقید، تدوین اور ادبی تبصرہ
ان کے والد کا ادبی ذوق بھی تھا اور قاضی عبدالودود نے قلمی نام ’’وحید‘‘ سے شاعری بھی کی، لیکن انہوں نے خود کو شاعر یا ناول نگار کی حیثیت سے پیش نہیں کیا۔
youtu.be/7jyjxgq1vrU?list=PLZ1oTRnRHCI4
تعلیم و تربیت
قاضی عبدالودود کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور قرآن حفظ کرنے کی بھی کوشش کی۔ بعد میں ان کی باقاعدہ تعلیم پٹنہ اور علی گڑھ کے تعلیمی اداروں میں جاری رہی۔
1916ء میں انہوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ اس کے بعد پٹنہ کالج میں داخل ہوئے اور 1918ء میں آئی اے اور 1920ء میں بی اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔
ادبی زندگی کا آغاز
قاضی عبدالودود کی ادبی و تحقیقی زندگی کا آغاز تقریباً 1912ء میں ہوا۔
1913ء میں ان کا پہلا مضمون شائع ہوا، جس میں اردو کے بعض شعرا اور ’’گلزارِ ابراہیم‘‘ کے مصنف ابراہیم خلیل سے متعلق تحقیقی مسائل پر گفتگو کی گئی تھی۔
ابتدا میں انہوں نے شاعری اور ترجمہ بھی کیا، لیکن جلد ہی ان کی اصل دلچسپی تحقیق، تنقید اور تدوین کی طرف ہوگئی۔
قاضی عبدالودود بحیثیت محقق
قاضی عبدالودود کی سب سے بڑی شناخت ایک بے مثال محقق کی ہے۔
ان کے تحقیقی طریقۂ کار کی بنیادی خصوصیات:
· تحقیق میں دیانت داری
· غیر جانب داری
· منطقی استدلال
· اصل ماخذ و مصادر کی تلاش
· تاریخی واقعات کی چھان بین
· متن کی صحت پر زور
· شخصیت پرستی سے گریز
· روایت کو بغیر تحقیق قبول نہ کرنا
· غلط نسبتوں کی اصلاح
· مستند شواہد کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرنا
ان کا اصول یہ تھا کہ کسی بڑے ادیب یا شاعر کی شخصیت سے مرعوب ہونے کے بجائے اس کے متن کو جانچا جائے۔ اگر کسی معروف ادیب کے متن میں بھی غلطی ہو تو اسے نشان زد کیا جائے۔
قاضی عبدالودود نے اردو تحقیق کو جذباتی اور روایتی انداز سے نکال کر منطقی، سائنسی اور مستند تحقیقی انداز کی طرف متوجہ کیا۔
غالبیات میں خدمات
قاضی عبدالودود کو غالبیات میں خصوصی مقام حاصل ہے۔
انہوں نے مرزا غالب کے حالات، شخصیت، کلام، تحقیق اور ادبی مقام کے متعلق متعدد اہم تحقیقات پیش کیں۔
1. ’’کچھ غالب کے بارے میں‘‘ — دو جلدیں
ان کی غالب شناسی نے غالب سے متعلق کئی مروجہ تصورات اور روایات کو تحقیقی معیار پر پرکھا۔
قاضی عبدالودود بحیثیت مرتب
انہوں نے بہت سی اہم کتابوں اور متون کی تدوین بھی کی۔
ان سے منسوب یا ان کی مرتب کردہ اہم کتابوں میں:
· دیوانِ جوش
· دیوانِ رضا
قاضی عبدالودود بحیثیت نقاد
قاضی عبدالودود نے تنقید کو بھی تحقیق کے قریب رکھا۔
ان کے تنقیدی رویے کی خصوصیات:
· منطقی انداز
· عقلی استدلال
· غیر جذباتی رویہ
· متن کی باریک بینی سے جانچ
· تاریخی پس منظر کی تحقیق
· ادبی روایت کا جائزہ
· مصنف کے دعوے کی تصدیق
اسی وجہ سے ان کی تنقید محض پسند و ناپسند کا اظہار نہیں بلکہ تحقیقی اور استدلالی تنقید بن جاتی ہے۔
غالبیات
· ’’آثارِ غالب‘‘
· ’’جہانِ غالب‘‘
· ’’غالب بہ حیثیتِ محقق‘‘
· ’’کچھ غالب کے بارے میں‘‘
· ’’تعینِ زمانہ‘‘
· ’’بہار کے اخبار‘‘
· ’’چند اہم اخبار و رسائل‘‘
ان میں ’’اشتروسوزن‘‘ اور ’’عیارستان‘‘ تبصروں کے مجموعے ہیں، جبکہ ’’آوارہ گردِ اشعار‘‘، ’’جہانِ غالب‘‘ اور ’’تعینِ زمانہ‘‘ ان کے اہم طویل تحقیقی مضامین میں شمار ہوتے ہیں۔
’’اشتروسوزن‘‘
’’اشتروسوزن‘‘ قاضی عبدالودود کے تبصروں کا اہم مجموعہ ہے۔
اس نام میں ’’اشترو‘‘ اور ’’سوزن‘‘ یعنی ’’اونٹ اور سوئی‘‘ کا تصور ملتا ہے، جس سے ان کے تحقیقی انداز کی باریک بینی کی طرف بھی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ کتاب ان کے تنقیدی و تحقیقی تبصروں کی وجہ سے اہم ہے۔
’’عیارستان‘‘
’’عیارستان‘‘ بھی ان کے اہم تبصروں کا مجموعہ ہے۔
قاضی عبدالودود کے تبصرے محض کتاب کی تعریف یا خامیاں بیان کرنے تک محدود نہیں ہوتے تھے، بلکہ وہ کتاب کے علمی دعووں، حوالوں، تاریخی معلومات اور متن کو بھی جانچتے تھے۔
’’آوارہ گردِ اشعار‘‘
یہ قاضی عبدالودود کا اہم تحقیقی کام ہے۔
اس میں ایسے اشعار اور ان کی نسبتوں کی تحقیق کی گئی جن کے متعلق غلط نسبتیں یا غیر یقینی روایات موجود تھیں۔
قاضی صاحب نے اشعار کے اصل خالق تک پہنچنے اور غلط نسبتوں کی اصلاح کی کوشش کی۔
’’معاصر‘‘ اور قاضی عبدالودود
قاضی عبدالودود کی ادبی شخصیت اور خدمات پر ’’معاصر‘‘ نے خصوصی شمارہ بھی شائع کیا۔
’’معاصر: قاضی عبد الودود نمبر‘‘ 1976ء میں شائع ہوا اور اسے کلیم الدین احمد نے مرتب کیا۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی تحقیقی خدمات کو ان کی زندگی ہی میں ادبی دنیا میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہوچکی تھی۔
قاضی عبدالودود اور ’’مقالات قاضی عبدالودود‘‘
ان کے مضامین اور تبصروں کو بعد میں ’’مقالات قاضی عبد الودود‘‘ کے عنوان سے مرتب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
پہلی جلد 1977ء میں شائع ہوئی۔ اس میں بہار اور اردو ادب سے متعلق اہم کتابوں پر ان کے تفصیلی تبصرے شامل تھے۔
قاضی عبدالودود کی اہمیت
اردو تحقیق کی تاریخ میں قاضی عبدالودود کا مقام اس لیے اہم ہے کہ انہوں نے محقق کے لیے سخت علمی معیار قائم کیا۔
انہوں نے یہ ثابت کیا کہ:
’’مشہور ہونا کسی ادبی دعوے کے درست ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔‘‘
محقق کو ہر بات کو ماخذ، دلیل اور متن کی روشنی میں جانچنا چاہیے۔
اسی علمی رویے نے اردو تحقیق کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔