وہاب اشرفی: حیات، ادبی خدمات اور تصانیف
وہاب اشرفی اردو ادب کے ممتاز محقق، نقاد، تاریخ نویس، صحافی، استاد اور افسانہ نگار تھے۔ خصوصاً اردو تنقید اور تاریخِ ادب کے میدان میں ان کی خدمات بہت اہم ہیں۔ ان کی شناخت ایک آزاد، وسیع النظر اور متوازن نقاد کی حیثیت سے بھی ہوتی ہے۔
تعارف
نام: سید عبد الوہاب اشرفی
قلمی نام: وہاب اشرفی
پیدائش: 2 جون 1936ء
مقامِ پیدائش: بی بی پور، کاکو، ضلع جہان آباد، بہار
وفات: 15 جولائی 2012ء
مقامِ وفات: پٹنہ، بہار
شعبۂ شہرت: تحقیق، تنقید، تاریخِ ادب، صحافت اور افسانہ نگاری
اہم اعزاز: ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، 2007ء
تاریخِ پیدائش کے سلسلے میں اختلاف ملتا ہے، لیکن ان کے ہائی اسکول سرٹیفکیٹ میں 2 جون 1936ء درج ہے، جسے خود وہاب اشرفی نے درست تسلیم کیا تھا۔
خاندانی اور علمی پس منظر
وہاب اشرفی کا تعلق بہار کے علمی و ادبی ماحول سے تھا۔ ان کی پیدائش کاکو کے بی بی پور میں ہوئی۔ ان کا تعلق معروف صوفی بزرگ اشرف جہاں گیر سمنانی کے خانوادے سے بتایا جاتا ہے۔
بچپن ہی سے علمی و ادبی ماحول نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ آگے چل کر انہوں نے اردو ادب کے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
ادبی زندگی کا آغاز
وہاب اشرفی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا، لیکن بعد میں افسانہ نگاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے تقریباً 42 افسانے لکھے اور ان کے افسانوں کے دو مجموعے بھی شائع ہوئے۔
بعد میں ان کی اصل توجہ تحقیق اور تنقید کی طرف ہوگئی اور یہی شعبہ ان کی بنیادی شناخت بن گیا۔
امتحان کے لیے یاد رکھیں:
ادبی زندگی کا آغاز → شاعری
اس کے بعد → افسانہ نگاری
اصل شہرت → تحقیق و تنقید
صحافتی خدمات
وہاب اشرفی نے عملی زندگی کا آغاز صحافت سے بھی کیا۔
کلکتہ میں قیام کے دوران وہ مختلف اخبارات و رسائل سے وابستہ رہے، جن میں:
عصرِ جدید الحق اخوت آہنگ مورچہ شامل ہیں۔
بعد میں وہ رسالہ ’’صنم‘‘ کے مدیر بھی رہے۔
پٹنہ سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالے ’’مباحثہ‘‘ کی ادارت بھی انہوں نے کی۔ یہ رسالہ نئی نسل کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے ایک اہم ادبی پلیٹ فارم بن گیا تھا۔
وہاب اشرفی بحیثیت نقاد
وہاب اشرفی کی سب سے بڑی شناخت اردو کے اہم نقاد کی حیثیت سے ہے۔
ان کی تنقید کی نمایاں خصوصیات:
1. آزادانہ تنقیدی رویہ
2. وسیع النظری
3. متوازن نقطۂ نظر
4. جدید فکری شعور
5. تحقیق اور تنقید کا امتزاج
6. مشرقی اور مغربی تنقیدی نظریات سے واقفیت
7. کلاسیکی اور جدید ادب دونوں کا مطالعہ
8. معنی اور ادراک پر خصوصی توجہ
انہوں نے کسی ایک مخصوص دبستان یا نظریاتی خیمے سے خود کو محدود نہیں کیا بلکہ آزاد اور وسیع تنقیدی رویہ اختیار کیا۔
پہلی اہم تنقیدی کتاب
وہاب اشرفی کی پہلی تنقیدی تصنیف:
’’قطبِ مشتری: ایک تنقیدی جائزہ‘‘
یہ کتاب 1967ء میں شائع ہوئی۔
اس کے بعد ان کی اہم تنقیدی کتابوں کا سلسلہ جاری رہا۔
’’قدیم ادبی تنقید‘‘اشاعت: 1973ء
یہ کتاب اردو تنقید کی تاریخ اور قدیم تنقیدی روایت کے حوالے سے اہم تصنیف ہے۔
مثنوی پر کام
وہاب اشرفی نے اردو کی کلاسیکی مثنوی اور مثنوی نگاری پر بھی اہم کام کیا۔
اہم کتابیں:مثنویاتِ میر کا تنقیدی جائزہ‘‘ مثنوی اور مثنویات‘‘
ان کتابوں کے ذریعے انہوں نے مثنوی کی فنی، ادبی اور تنقیدی جہات کو سمجھنے کی کوشش کی۔
وہاب اشرفی خود بھی افسانہ نگار تھے اور اردو فکشن کے نقاد بھی۔
اہم تصانیف:
· ’’اردو فکشن اور تیسری آنکھ‘‘
· ’’افسانہ اور افسانے‘‘
· ’’بہار میں اردو افسانہ نگاری‘‘
· ’’راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری‘‘
انہوں نے اردو فکشن کے مختلف پہلوؤں، افسانہ نگاروں اور افسانوی روایت کا تنقیدی مطالعہ کیا۔
معنی کے تصور پر کام
وہاب اشرفی کی تنقید میں ’’معنی‘‘ کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اس سلسلے میں ان کی اہم کتابیں ہیں:
· ’’معنی کی تلاش‘‘
· ’’معنی سے مصافحہ‘‘
· ’’معنی کی جبلت‘‘
· ’’معنی کا مسئلہ‘‘
· ’’ادراکِ معنی اور پسِ آئینہ‘‘
ان تصانیف سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تنقید محض ادبی تاریخ بیان کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ادب کے معنی، ادراک اور فکری جہات پر بھی غور کرتے تھے۔
ان کی اہم کتاب:مشرقی و مغربی تنقید‘‘
اس سے ان کی تنقیدی فکر میں مشرقی اور مغربی ادبی نظریات کے تقابلی مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے۔
اسی طرح:مارکسی فلسفہ اور اشتراکیت‘‘کے ذریعے انہوں نے مارکسی فکر اور ادب کے تعلق پر بھی بحث کی۔
وہاب اشرفی کا ایک بہت بڑا علمی کارنامہ:۔ ’’تاریخِ ادبیاتِ عالم‘‘
یہ سات جلدوں پر مشتمل اہم تصنیف ہے، جس میں دنیا کے مختلف اہم ادبیات کا وسیع مطالعہ پیش کیا گیا۔
اس کی اشاعت کا زمانہ تقریباً 1991ء تا 2005ء بتایا جاتا ہے۔
یہ کام وہاب اشرفی کی تحقیقی اور تاریخ نویسانہ صلاحیت کا نمایاں ثبوت ہے۔
تاریخِ ادبِ اردو:۔
وہاب اشرفی کا سب سے اہم اور معروف تحقیقی کارنامہ:
’’تاریخِ ادبِ اردو‘‘:۔یہ اردو ادب کی تاریخ پر ان کی اہم تصنیف ہے۔
اس میں اردو ادب کے مختلف ادوار، اصناف، ادبی تحریکات، شعرا، ادبا اور ادبی رجحانات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اسی کتاب پر انہیں:۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ — 2007ء ملا۔
وہاب اشرفی کی خودنوشت:۔ ’’قصہ بے سمت زندگی کا‘‘ہے۔
1
قطبِ مشتری: ایک تنقیدی جائزہ
تنقید
2
قدیم ادبی تنقید
تنقید
3
مثنویاتِ میر کا تنقیدی جائزہ
تنقید
4
مثنوی اور مثنویات
تنقید
5
معنی کی تلاش
تنقیدی مضامین
6
آگہی کا منظرنامہ
تنقیدی مضامین
7
8
حرف حرف آشنا
تنقیدی مضامین
9
معنی سے مصافحہ
تنقید
10
معنی کی جبلت
تنقید
11
معنی کا مسئلہ
تنقید
12
مشرقی و مغربی تنقید
تقابلی تنقید
13
مارکسی فلسفہ اور اشتراکیت
فلسفہ و ادب
14
تاریخِ ادبیاتِ عالم
عالمی ادب کی تاریخ
15
تاریخِ ادبِ اردو
اردو ادب کی تاریخ
16
قصہ بے سمت زندگی کا
خودنوشت
17
تفہیم البلاغت
بلاغت
18
20
بہار میں اردو افسانہ نگاری
فکشن/تحقیق