حالات اورتعلیمی زندگی، تصنیفات اور خدمات
حیات اللہ انصاری اردو ادب کے اہم افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی، نقاد اور سماجی و سیاسی کارکن تھے۔ وہ ترقی پسند ادب اور حقیقت پسند افسانہ نگاری کے نمائندہ ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسان دوستی، سماجی حقیقت، مظلوم طبقات کے مسائل اور آزادیِ وطن کا جذبہ نمایاں ہے۔
حیات اللہ انصاری کے والد کا نام مولوی وحید اللہ انصاری تھا۔ انہوں نے ایک ایسے علمی ماحول میں پرورش پائی جہاں دینی اور مشرقی علوم کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
علی گڑھ میں قیام کے دوران ان کا رابطہ ترقی پسند ادیبوں اور ان کے افکار سے ہوا۔ بعد میں وہ گاندھی جی کے فلسفۂ انسان دوستی اور عدم تشدد سے بھی متاثر ہوئے۔ ان کے ادبی افکار پر ترقی پسند تحریک اور گاندھیائی نظریات دونوں کے اثرات نظر آتے ہیں۔
٭حیات اللہ انصاری گاندھی جی کےافکارو خیالات سے متاثر تھے۔
حیات اللہ انصاری نے افسانہ نگاری کے ذریعے اردو ادب میں اپنی نمایاں شناخت قائم کی۔
ان کی پہلی مطبوعہ کہانی ’’بڈھا سود خور‘‘ 1930ء میں شائع ہوئی۔
ان کے افسانوں میں عام انسان کی زندگی، غربت، طبقاتی کشمکش، انسانی دکھ اور سماجی حقیقتوں کی عکاسی ملتی ہے۔
ان کا مشہور افسانہ ’’آخری کوشش‘‘ اردو افسانے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
انوکھی مصیبت بھرے بازار میں شکستہ کنگورے ٹھکانہ
ناول
’’لہو کے پھول‘‘ حیات اللہ انصاری کی سب سے اہم تصنیف ہے۔ یہ پانچ جلدوں پر مشتمل تاریخی ناول ہے، جس میں ہندوستان کی تحریکِ آزادی، خلافت تحریک، قومی بیداری اور عوامی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس کی اشاعت 1969ء میں ہوئی۔
دیگر تصانیف:۔ مدار گھروندا جدیدیت کی سیر دس دن میں اردو
سرسید کی ایک جھلک ن م راشد پر
صحافتی خدمات:۔حیات اللہ انصاری نے اردو صحافت کے میدان میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ وہ اردو روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ کے طویل عرصے تک مدیر رہے۔ ان کی ادارت میں ’’قومی آواز‘‘ نے اردو صحافت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے صحافت کو قومی بیداری، سماجی شعور اور اردو زبان کی ترقی کا ذریعہ بنایا۔
سیاسی خدمات:۔