عطا کاکووی حیات، ادبی و تحقیقی خدمات اور تصانیف
عطا کاکوی بہار کے ممتاز شاعر، محقق، ادیب، استاد اور فارسی و اردو کے عالم تھے۔ ان کا اصل نام سید شاہ عطاالرحمن بتایا جاتا ہے اور تخلص ’’عطا‘‘ تھا۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ تحقیق، تذکرہ نگاری، تدوین اور ترجمہ کے میدان میں بھی اہم کام کیا۔
نام: سید شاہ عطاالرحمن
تخلص: عطا
مشہور نام: عطا کاکووی
پیدائش: 1904ء، کاکو، ضلع جہان آباد، بہار
وفات: 18 مارچ 1998ء، پٹنہ
والد: حمد کاکوی
استادِ سخن: شاد عظیم آبادی
شعبۂ شہرت: شاعری، تحقیق، تذکرہ نگاری، تنقید، ترجمہ اور تدریس
تعلیم:۔
عطا کاکوی نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پٹنہ سٹی اسکول میں داخلہ لیا۔ 1920ء کی تحریکِ ترکِ موالات کے زمانے میں انہوں نے تعلیم ترک کردی، لیکن بعد میں دوبارہ تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔
1924ء میں گیا ضلع اسکول سے میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور فارسی میں ایم اے کیا۔ اردو میں بھی ایم اے کیا اور ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کی۔
ملازمت اور تدریسی خدمات
عطا کاکوی نے عملی زندگی کا آغاز خانقاہ قادریہ اسکول، اسلام پور میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے کیا۔
بعد میں:
· بی این کالج میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
· مظفرپور گورنمنٹ کالج میں لیکچرار رہے۔
· 1962ء میں ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔
· بعد میں پٹنہ یونیورسٹی میں عربی و فارسی کے ڈائریکٹر رہے۔
· خدا بخش خان لائبریری میں فارسی مخطوطات کی توضیحی فہرست کی تیاری سے بھی وابستہ رہے۔
عطا کاکوی بحیثیت شاعر
وہ شاد عظیم آبادی کے شاگرد تھے۔ ان کی شاعری میں خصوصاً غزل اور رباعی کو اہم مقام حاصل ہے۔
ان کے کلام میں:
· کلاسیکی شعری روایت
· تصوف
· عشق
· اخلاقی و مذہبی موضوعات
· انسانی جذبات
کی جھلک ملتی ہے۔
ان کے کلام کا مجموعہ ’’کلامِ عطا کاکوی‘‘ بھی شائع ہوا، جس کا ایک ایڈیشن 1966ء میں منظر عام پر آیا۔
عطا کاکوی بحیثیت محقق
عطا کاکوی کی ادبی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی تحقیقی خدمات ہیں۔
انہوں نے بہار کی ادبی، تاریخی اور ثقافتی روایت پر خاص توجہ دی۔ مختلف قدیم کتابوں، تذکروں اور مخطوطات کی تلاش، ترتیب اور تدوین میں بھی حصہ لیا۔
ان کے تحقیقی کام میں:
تذکرہ نگاری
عطا کاکوی نے تذکرہ نگاری کے میدان میں بھی نمایاں کام کیا۔
اہم کتاب:۔ ’’تذکرۂ شعرا‘‘
یہ تذکرہ شاد عظیم آبادی کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ صوفی نامہ کے مطابق ’’تذکرۂ شعرا‘‘ شاد عظیم آبادی کی زبان میں مرتب تذکرے کے طور پر درج ہے۔
ان کی تصانیف میں ’’طبقات شعرائے ہند‘‘ بھی شامل ہے۔
شاد عظیم آبادی پر خدمات
عطا کاکوی کا شاد عظیم آبادی سے گہرا تعلق تھا اور وہ ان کے شاگرد تھے۔
انہوں نے شاد عظیم آبادی کے کلام، شخصیت اور ادبی مقام کے مطالعے میں بھی حصہ لیا۔
اہم کتاب: ۔مطالعۂ شاد‘‘یہ شاد عظیم آبادی کے حوالے سے ان کے اہم تحقیقی و تنقیدی کاموں میں شمار ہوتی ہے۔
’’آثارِ کاکو‘‘
’’آثارِ کاکو‘‘ ایک اہم تاریخی و تحقیقی کتاب ہے۔
یہ کتاب دراصل حمد کاکوی کی تصنیف ہے، جبکہ عطا کاکوی اس کے ناشر تھے۔ کتاب میں کاکو کی تاریخ، آثار اور وہاں کی تاریخی و تہذیبی روایت کو مستند ماخذ کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔
عطا کاکوی نے ترجمے کے میدان میں بھی کام کیا۔
عطا کاکوی بحیثیت مرتب
عطا کاکوی نے متعدد قدیم اور ادبی کتابوں کو مرتب کیا۔
ان کے مرتب کردہ اہم کاموں میں:
· دیوانِ خواجہ امین الدین امین عظیم آبادی
· کلامِ کمال دیوروی
· تذکرۂ شمعِ انجمن
· سفینۂ خوشگو
· طبقات شعرائے ہند
وغیرہ شامل ہیں۔
اہم تصانیف
امتحان کے نقطۂ نظر سے عطا کاکوی کی اہم کتابوں کو اس طرح یاد کریں:
· ’’آثارِ کاکو‘‘ — ناشر کی حیثیت سے
شاعری
· ’’کلامِ عطا کاکوی‘‘
· ’’آوارہ گرد اشعار‘‘
تذکرہ و تدوین
· ’’تذکرۂ شعرا‘‘
· ’’طبقات شعرائے ہند‘‘
· ’’سفینۂ خوشگو‘‘