رشید احمد صدیقی
رشید احمد صدیقی1896کو گاؤں مڑیا ، جون پور میں پیدا ہوئے۔
رشید احمد صدیقی کا انتقال 1977کو ہوا۔
رشید احمد صدیقی کے والد کا نام ’’عبدالقدیر‘‘تھا۔
رشید احمد صدیقی کی بیوی کا نام ’’جمیلہ خاتون ‘‘تھا۔
میٹرک تک جونپور میں رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ آ گئے۔ مالی حالت سے مجبور ہو کر کچہری میں ملازمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اورفارسی میں ایم اے کیا۔
علی گڑھ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ 1922ء میں وہیں کالج میں پروفیسر ہو گئے اور جب یونیورسٹی بنی اور اردو ادبیات کا شعبہ قائم ہوا تو رشید احمد صدیقی کو صدر شعبہ بنا دیا گیا۔
رشید احمد صدیقی اردو ادب کی دنیا میں ’’تاثراتی نقاد‘‘کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
مزاح کو زیر لب تبسم سے قہقہوں تک پہنچانے والے مزاح نگاروں میں ایک اہم نام رشید احمد صدیقی کا ہے۔
ان کے طنز میں کہیں کہیں شدت تو پائی جاتی ہے مگر دل آزاری نہیں ہوتی۔
زندگی کے ایسے معمولی معمولی واقعات جنھیں ہم غیر اہم سمجھ کر سرسری طور سے گزر جاتے ہیں، رشید احمدصدیقی
انھیں میں مزاح کا پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔
رشید احمد صدیقی کی تحریروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ادبی ذوق کا ہونا ضروری ہے۔
تاریخ ، تہذیب، سیاست، سائنس اور جد و جہد آزادی ان کے اہم موضوعات ہیں۔
مختلف پیشہ ور افراد کی کوتاہیوں اور ان کی سرگرمیوں کوبھی انھوں نے طنز و مزاح کا موضوع بنایا ہے۔
رشید احمد صدیقی نے اپنی بعض تحریروں میں دیہاتی معاشرت، دیہاتی سادہ لوحی اور زبان سے مزاح کے پہلو کو بڑی خوبی سے ابھارا ہے۔
تصنیفات:۔
گنج ہائے گراں مایہ (1947)اس میں سولہ خاکے شامل ہیں۔(کچھ کتاب میں 1937 دیا ہے)
ہم نفسان رفتہ(1966) اس میں سات خاکے شامل ہیں۔
انشائیے:۔چار پائی ،ارہر کا کھیت،وکیل صاحب،پاسبان، دیہاتی ڈاکٹر ،خنداں اور سہیل کی سرگذشت وغیرہ
انشائیے ’’چارپائی اور وکیل صاحب‘‘مضامین رشید میں شامل ہے۔
خاکے:۔کندن، اقبال سہیل،ذاکر صاحب، شیخ نیازی
رشید احمد صدیقی کے ریڈیائی تقریروں کا مجموعہ’’ خنداں‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا۔
رشید احمد صدیقی کی ’’آشفتہ بیانی میری‘‘خودنوشت ہے۔(1958)
مضامین رشید ان کی مزاحیہ تصانیف ہیں ۔
رشید احمد صدیقی کی تصنیف’’جدید غزل(مضمون ہے)
طنز و مزاح اورتاریخ و تنقید:۔ طنزیات و مضحکات(سن اشاعت :1993)
علی گڑھ ماضی و حال (سن اشاعت :1970)
آپ بیتی(حیات، افتاد اور فتوحات) سن اشاعت :1977(ایڈیٹر :سید معین الرحمٰن)