تعارف، حالاتِ زندگی، تعلیمی زندگی، تصنیفات اور خدمات
ڈاکٹر شوکت سبزواری اردو کے ممتاز ماہرِ لسانیات، محقق، نقاد اور شاعر تھے۔ اردو زبان کی تاریخ، ارتقا، قواعد اور لسانی مسائل پر ان کی تحقیقات نے اردو لسانیات کو ایک نئی علمی سمت عطا کی۔ ان کی خاص شہرت ایک ماہرِ لسانیات کی حیثیت سے ہوئی۔
ان کا اصل نام سید شوکت علی اور قلمی نام ’’شوکت سبزواری‘‘ تھا۔
ان کے والد کا نام سید اسد علی تھا۔
پیدائش 13 اکتوبر 1908ء کو میرٹھ میں ہوئی ہے۔
ان کا انتقال 19 مارچ 1973ء کو کراچی میں ہوا۔
شوکت کے آباؤ اجداد مغلیہ دور میں مشہد، ایران سے ہندوستان آئے اور میرٹھ میں سکونت اختیار کی۔
ابتدا میں اسلامیہ انٹر کالج بریلی میں تدریس کی،
پھر میرٹھ کالج کے شعبۂ فارسی سے وابستہ ہوئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے صدر مقرر ہوئے۔
شوکت سبزواری نے ابتدائی طور پر مدرسہ امداد العلوم، میرٹھ میں عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔
ایم۔اے فارسی
ایم۔اے عربی
ایل۔ایل۔بی
ایم۔اے اردو، آگرہ یونیورسٹی
پی۔ایچ۔ڈی اردو لسانیات، ڈھاکہ یونیورسٹی، 1952ء
وہ ابتدا میں نجی طالب علم کی حیثیت سے اپنی تعلیم جاری رکھتے رہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں انہوں نے اردو لسانیات میں ڈاکٹریٹ کی۔
ادبی زندگی:۔
شوکت سبزواری نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا۔
اہم تصنیفات:۔
شوکت سبزواری کی تصانیف کو بنیادی طور پر لسانیات، غالبیات اور تنقید کے موضوعات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
لسانیات سے متعلق کتابیں
اردو زبان کا ارتقا داستانِ زبانِ اردو لسانی مسائل اردو لسانیات
اردو قواعد
’’اردو زبان کا ارتقا‘‘ کی اہمیت:۔
’’اردو زبان کا ارتقا‘‘ شوکت سبزواری کی نہایت اہم تحقیقی تصنیف ہے۔ یہ دراصل ان کا ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ تھا، جو 1956ء میں ڈھاکہ سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔
ان کتابوں میں اردو زبان کی ابتدا، ارتقا، ساخت، صوتیات، قواعد اور مختلف لسانی مسائل پر بحث کی گئی ہے۔
غالبیات سے متعلق تصانیف
1. فلسفۂ کلامِ غالب
2. غالب: فکر و فن
تنقیدی تصانیف
1. معیارِ ادب
2. نئی پرانی قدریں
شوکت سبزواری کی سب سے بڑی خدمت اردو لسانیات کے میدان میں ہے۔ انہوں نے اردو زبان کو محض ادبی نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ سائنسی اور لسانی اصولوں کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی۔
ان کی تحقیقات میں خاص طور پر:
· لسانی اصطلاحات
· زبان اور رسم الخط
تدریسی و علمی خدمات:۔
شوکت سبزواری نے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوئے اور اس کے صدر بھی رہے۔ بعد میں کراچی میں ترقی اردو بورڈ، جو بعد میں اردو لغت بورڈ کے نام سے معروف ہوا، سے وابستہ رہے اور اس کے مدیر و مدیرِ اعلیٰ کے فرائض انجام دیے۔
اعزاز:۔اردو لسانیات کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں شوکت سبزواری کو ’’داؤد ادبی انعام‘‘ سے نوازا گیا۔